Share on

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin

Stop Negative Thoughts

نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق ہر روز انسانی ذہن میں تقریباً ساٹھ ہزار خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تمام خیالات غیر ارادی ہوتے ہیں اور ہمارا ان پر اختیار نہیں ہوتا۔پریشانی کی بات یہ کہ ان خیالات میں زیادہ تر منفی ہوتے ہیں اور ان منفی خیالات میں ٪95 خیالات بار بار ذہن میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ان منفی خیالات میں حسد، نفرت، جلن، انتقام، ناامیدی، شک، خوف اور جنسی خواہشات شامل ہوتی ہیں۔ عموماً ہم ان منفی خیالات کو سمجھ نہیں پاتے اور ان کے حق میں خود کو دلائل دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ان خیالات کا جائزہ لیتے ہوئے جانبداررانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔

اگر ہمارے دل میں کسی شخص کے لئے نفرت اور انتقام کے خیالات پیدا ہوتے ہیں تو ہم خود کو ایک جھوٹی تسلی دینے لگتے ہیں کہ اس شخص کے اعمال یا ہمارے ساتھ رویہ ہی ایسا ہے کہ اس سے نفرت کی جائے اور موقع ملنے پر بھرپور انتقام لیا جائے۔ ہمارے دماغ میں پیدا ہونے والی یہ جانبدار سوچ، پہلے والی منفی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ اس دوسری سوچ سے ہم خود کو قائل کر رہے ہیں کہ نفرت اور انتقام کے جذبات بالکل جائز ہیں۔ ہماری پہلی منفی سوچ غیر ارادی ہوتی ہے، لیکن جب ہم خود کو اس سوچ کے درست ہونے پر قائل کر لیتے ہیں تو ہم ارادی طور پر ایسی منفی باتیں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہیں سے ہماری منفی شخصیت پروان چڑھنا شروع کرتی ہے۔

اگر ہم اپنے ان غیر ارادی خیالات کا غیر جانبدار رہ کر جائزہ نہیں لیتے اور انہیں اپنے دماغ سے نہیں نکالتے تو یہ خیالات ہماری نفسیاتی الجھنوں اور مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ اور اگر ان نفسیاتی الجھنوں اور مسائل کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو یہ اس قدر طاقتور ہو جاتے ہیں کہ نہ صرف ہماری اپنی ذات بلکہ معاشرے کے لئے بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی درندگی اور خودکشی کے واقعات انہی منفی خیالات  کا نتیجہ ہیں۔

ہمارے ذہن میں غیر ارادی طور پر پیدا ہونے والے کچھ خیالات اس حد تک منفی ہوتے ہیں کہ ان کا تذرہ کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ ہمیں ڈر ان منفی خیالات کا نہیں بلکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ہمیں اس بات کی شرمندگی رہتی ہے کہ اگر میں نے اپنے ان منفی خیالات کا اظہار کر کے کسی سے مشورہ مانگا تو اس کے نتیجے میں مجھے اس شخص کی طرف سے ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یا پھر وہ شخص میرے خیالات کو جان کر مجھے شرمندہ کرے ا۔ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اگر ان خیالات کا سد باب نہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک بھی ہو سکتے ہیں۔

جس طرح جسمانی بیماریوں کو جاننا اور پھر ان کا علاج کروانا ضروری ہے اسی طرح ان منفی خیالات سے پیدا ہونے والی نفسیاتی الجھنوں اور مسائل کو جاننا اور ان کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔ نفسیاتی مسائل، جسمانی بیماریوں سے بہت زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ جسمانی بیماری کو عموماً دوسرے افراد بھی محسوس کر لیتے ہیں، لیکن نفسیاتی مسائل بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ کچھ علامات جو نفسیاتی مسائل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں، ان کے بارے میں ہمیں زیادہ علم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہم انہیں اہمیت نہیں دیتے۔

ہر وقت کی بے زاری، معمولی باتوں پر چڑچڑا پن، غصہ، یکسوئی میں کمی، اپنے شروع کئے گئے کاموں سے جلد اکتاہٹ، گھر والوں سے تعلقات میں سرد مہری، نشے کی عادت وغیرہ منفی خیالات کے رد عمل میں ظاہر ہونے والی علامات ہو سکتی ہیں۔ اپنی شخصیت میں ان علامات کا جائزہ لیتے رہیں۔ اگر آپ میں  ایسی ایک یا ایک سے زیادہ علامات سامنے آئیں تو آپ کو اپنی سوچ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں تین افراد ہیں جو آپ کی مدد کر کے آپ کو ان مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں۔

سب سے پہلے فرد آپ خود ہیں۔ خود کو یقین دلائیں کہ آپ کے ذہن میں پیدا ہونے والی سوچ منفی ہے اور اسے میں اپنی مثبت سوچ سے دور کر سکتا ہون۔ اپنی منفی سوچ کو منفی تسلیم کرنا، اسے ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ ہم کسی بھی بیماری کا علاج تبھی شروع کرتے ہیں جب ہم اسے بیماری تسلیم کریں۔ کبھی بھی ان منفی خیالات کے حق میں خود کو قائل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کسی بھی طرح کے حالات میں اچھی بات تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوشش کے باوجود ان منفی خیالات کی وجہ سے سے ظاہر ہونے والی علامات پر قابو نہیں پا سکتے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ابھی آپ کے پاس دو حل اور بھی موجود ہیں۔

دوسرا فرد آپ کا وہ مخلص دوست ہے جس پر آپ کو یقین ہو کہ وہ آپ کی بات کو سنجیدگی سے سن کر آپ کو بہتر مشورہ دے گا۔ ہم عموماً اپنے منفی خیالات کا اظہار اپنے دوستوں سے بھی نہیں کرتے کہ کہیں ہمارا دوست ہمیں ایک برا انسان نہ سمجھ لے۔ اور ہمارے تعلقات خراب نہ جائیں۔ یاد رکھیں کہ ہر دوست سے ہم اپنے دل کی بات نہیں کرتے۔ زندگی میں بہت سوچ سمجھ کر اور جانچ کر ایسا دوست بنائیں جس پر آپ کو یقین ہو کہ وہ ہر صورت میں آپ کا ساتھ دے گا۔ جو ہر صورت میں آپ ساتھ نہیں دیتا، وہ آپ کا بہترین دوست نہیں ہو سکتا۔ہر انسان کی زندگی میں ایک دوست ایسا ضرور ہوتا ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ اگر ہمارا ایسا کوئی دوست نہیں تو پھر ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کس وجہ سے ہمارا کوئی ایسا مخلص دوست نہ بن سکا جس پر ہم بھرپور اعتماد کر سکیں۔

اگر خود کوشش کرنے اور پھر اپنے بہترین دوست کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے باوجود آپ کے مسائل کا حل نہیں نکلتا تو پھر ضروری ہے کہ تیسرے فرد سے رابطہ کیا جائے۔ وہ تیسرا فرد ہے کوئی ماہر نفسیات۔ اپنے مسائل کے حل کے لئے کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے سے شرمندہ نہ ہوں۔ ہمارے معاشرے میں کم علمی کی وجہ سے لوگ ماہر نفسیات کے پاس جانے سے کتراتے ہیں کہ کہیں ان کے جاننے والے انہیں پاگل نہ سمجھ لیں۔ کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے سے پہلے یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لیں کہ نفسیاتی بیماری بھی جسمانی بیماری کی طرح ہے، اور ہم نے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اپنی اس بیماری کو ختم کرنا ہے۔ویسے بھی کسی ایک فردکو اپنا مسئلہ بتانا اس سے بہت بہتر ہے کہ کل بہت سے لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin

Leave a Reply

more articles

Humaira Syed

Sixteen Days of Activism

خواتین پر تشدد کے خلاف ہر سال پوری دنیا میں سکسٹین ڈایز آف ایکٹوازم کے نام سے کچھ دن مخصوص کئے گئے ہیں۔ 25 نومبر

Read More »
Humaira Syed

Be Proactive

We’re excited to announce our panelists of the *FREE Virtual Conference* who will have an insightful and reflective discussion on *Be proactive…Be self Motivated* during

Read More »