Share on

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin

Sixteen Days of Activism

خواتین پر تشدد کے خلاف ہر سال پوری دنیا میں سکسٹین ڈایز آف ایکٹوازم کے نام سے کچھ دن مخصوص کئے گئے ہیں۔ 25 نومبر سے 10 دسمبر تک کے ان دنوں میں خواتین کے حقوق پر بات کی جاتی ہے۔ خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔ لوگوں کو خواتین پر ہونے والے تشدد کے بارے میں آگاہی دینے کے لئے مختلف ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لیکن انتہائی دکھ اور تکلیف کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہر سال خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دنیا کا شائد ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا شائد ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں خواتین پر تشدد کے واقعات سامنے نہیں آتے۔ دنیا کا شائد ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں خواتین کے حقوق اور ان کی عزت اور احترام کے حق میں ورکشاپس اور سیمینارز منعقد نہ کئے جاتے ہوں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا شائد ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں آئے دن خواتین کی عزتیں پامال نہ کی جاتی ہوں۔

 جن عورتوں اور بچیوں پر تشدد کیا جاتا ہے یا انہیں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ کسی دوسری دنیا سے آئی ہوئی مخلوق نہیں جن کے ساتھ ہمارا کوئی رشتہ یا تعلق نہیں۔ یہ وہی عورت ہے جو دنیا کے ہر مرد کو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھ کر اپنے خون سے اس کی پرورش کرتی ہے۔ انتہا درجے کی جسمانی تکلیف برداشت کر کے اسے جنم دیتی ہے۔ خود راتوں کو جاگ کر اپنے بچے کو سلاتی ہے۔ خود بھوکی رہ کر اپنے بچے کو کھلاتی ہے۔ یہی عورت بہن کے روپ میں اپنے بھائیوں کے ہر دکھ سکھ کی ساتھی ہوتی ہے۔ یہی عورت بیوی کے روپ میں مرد کی جسمانی اور روحانی آسودگی کا باعث بنتی ہے۔ یہی عورت بیٹی کے روپ میں باپ کی خدمت کرتی ہے اور اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ دنیا میں گنے چنے چند مرد ہوں گے جو ماں، بہن اور بیٹی کی عزت نہیں کرتے۔ لیکن جب یہی عورت بیوی بن کر ان کے گھر آتی ہے تو اسے اپنے پاؤں کی جوتی بنا کر رکھنا ہی انہیں مردانگی لگتی ہے۔ نہ جانے مرد کے دل میں ماں، بہن اور بیٹی کا احترام اس وقت کیوں ختم ہو جاتا ہے جب وہ کسی اور کی ماں، بہن یا بیٹی ہو۔

میں یہ نہیں کہتی ہے کہ اس میں سارا قصور مردوں کا ہے۔ اس گناہ میں حصہ دار وہ والدین بھی ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کو بڑھاپے کا سارا سمجھتے ہوئے بیٹی سے زیادہ اہمیت دی۔ جنہوں نے اپنے بیٹے کو صرف ماں باپ کی عزت کرنا سکھایا لیکن عورت کی عزت کرنا نہ سکھا سکے۔ ایسے والدین یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب ان کی بہن یا بیٹی گھر سے باہر نکلے گی تو لوگ اسے بھی کسی دوسرے کی بہن اور بیٹی کی نظر سے دیکھیں گے۔

والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بیٹوں کی بھی اخلاقی تربیت کریں۔ انہیں ایک اچھا انسان بنائیں، نہ کہ ایسا درندہ جو دوسروں کی عزتوں کا شکار کرنے کے لئے گھات لگائے بیٹھا ہو۔ اگر والدین نے اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا نہ سکھایا تو ان کی اپنی بہن اور بیٹی کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ باہر گھومنے والے مرد کی تربیت بھی اسی انداز میں کی گئی ہو جس انداز میں انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت کی۔ اگر اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اپنے بیٹے کی نظر میں عورت کے مقام کو بلند کریں۔

ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں عورت جب گھر سے نکلے تو اسے اپنے سامنے مرد کی صورت میں ایک درندہ نہیں بلکہ اس کی عزت اور جان کا محافظ نظر آئے۔  جس دن ہمارے مردوں نے عورت کا اس طرح احترام کرنا سیکھ لیا جو اس کا حق ہے تو ان کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی ضمانت دوسرے مرد دیں گے۔

75% LikesVS
25% Dislikes
Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin

Leave a Reply

more articles

Humaira Syed

Stop Negative Thoughts

نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق ہر روز انسانی ذہن میں تقریباً ساٹھ ہزار خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تمام خیالات غیر ارادی ہوتے

Read More »
Humaira Syed

Be Proactive

We’re excited to announce our panelists of the *FREE Virtual Conference* who will have an insightful and reflective discussion on *Be proactive…Be self Motivated* during

Read More »